میری زندگی کے مالک میرا سفر قبول کرلے
میرا کاروں چلا ہے تیرے گھر قبول کر لے
تو میری جبیں کے سجدوں سے ہے بے نیاز
لیکن تیرا آستانہ سلامت میرا سر قبول کرلے
میں تیرے حضور لایا ہوں ندامتوں کر آنسو
تجھے رحمتوں کا صدقہ یہ گوہر قبول کر لے
ہے تیرے نبی کا فرمان تجھے معذرت ہے پیاری
جو جھکی ہوئی ہے وہ نظر قبول کرلے
میرے پاس جیسا دل تھا وہی لے کے آگیا ہوں
تو یہ دل قبول کر لے یہ جگر قبول کر لے
میں یہ جانتا ہوں سکے ہیں میرے تمام کھوٹے
یہ کرم مزید ہوگا تو اگر قبول کر لے
میرے پاس میرے عیبوں کے سوا تو کچھ نہیں ہے
بھلا کس زبان سے کہ دوں کہ ہنر قبول کرلے
تیرے پاس ہے خدائی، میرے پاس ہے گدائی
مجھے مانگنا نہ آیا تو مگر قبول کرلے
آئے میرے کریم آقا تیرا فضل مانگنے کو
یہ عطا جہاں سے آیا وہ نگر قبول کرلے