بقلم مفتی سلمان شیخ
ارباب وفکر و دانش ، جہان کتا ب وقلم کے مسا فران جلیل اور میر غیو ر ما وں بہنوں
السلام علیکم
اللہ تعالی نے ارشاد فر مایا
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ وَالۡخَـيۡلِ الۡمُسَوَّمَةِ وَالۡاَنۡعَامِ وَالۡحَـرۡثِؕ ذٰ لِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ
انسانوں کی سب سے محبو ب شے عورت ہے ۔
اگر ہم قدیم چینی با دشاہو ں کے حرم میں رہنے والی ہزاروں کنیزوں اور ان پر ہونے والے مظالم سے لیکر مسلم دنیا کے رنگیلے با د شا ہوں کا مطالعہ کر یں تو ہمیں قرآن مجید کی با ت میں صداقت نظر آتی ہے ،
اسی طر ح قصر الزہرا ء کے طلسمیا تی کا رخا نوں سے لیکر تاج محل کے عجوبے کو دیکھیں تو بھی ہمیں یہ با ت سچ نظر آتی ہے۔
کہ عورت محبوب ہے، اورقا عدہ یہ ہے کہ ہر محبوب چیز قیمتی ہو ا کرتی ہے، اور قیمتی اشیاء کی حفا ظت کی جا تی ہے
سا معین گرامی
جب ہم تا ریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے عورتوں سے دل بہلانا یہاں تک کہ اپنی مملکت میں پیدا ہو نے والی ہر بچی کو اپنی مملکو کہ سمجھنا قدیم با دشاہوں کا مشغلہ رہاہے۔
اسیطرح اگر ہم جدید مغربی تہذیب کا مطالعہ کریں تو وہ بھی عورت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
آزاد ی نسواں کے پر فریب نعرے سے لیکر مرد، عورت شانہ بشانہ کے نعرے تک ، ںجی اور سرکا ری ملازمتوں میں خوا تین کے کو ٹے سے لیکر خواتین کے کھیل کو د اور تفریحی سرگرمیوں تک ، بہبو د آبا دی کے نعرے سے لیکر Empowering Women کے نعرے تک سب کا ایک مقصد نظر آتا ہے کہ کس طر ح خو اتین کے پر دہ کو تا ر تا ر کیا جا ئے اور انہیں قدیم تہذیب کی ما نند ایک پروڈکٹ بنا یا جا ئے
معزز سا معین
اگر آج ہم مغربی معا شرہ کا جا ئزہ لیں ، جہاں پر دہ کو دقیا نو سیت قرار دیکر پھینکا جا چکا ہے ، چاردیو اری کو قید قرار دیکر اس سے مکمل رہا ئی حا صل کر لی گئی ہے تو ہمیں ہو شربا حقا ئق کا سامنا کر نا پڑتا ہے جس کو دیکھ کر انسا نیت شر ما جا تی ہے
آج مغربی دنیا میں سب زیا دہ جر ائم خو اتین کی عصمت و عفت سے متعلق ہیں ہر دو میں سے ایک خا تون کو ہر اسگی کا سا منا ہے صر ف امر یکہ میں
سا ت لا کھ سے زا ئد لو گ جنسی جر ائم میں قید ہیں۔
اور انکے سخت سے قوانین بھی ان جر ائم پر قابو پا نے میں نا کام ہیں اور حد تو یہ ہیکہ مقدس رشتوں کی پا ما لی کو ایک معمول کی با ت سمجھا جا تا ہے ۔الغرض پو رے خا ند انی نظا م کی کا یا لپیٹی جا چکی ہیں اور اس با ت پر
پا بندی ہے کہ آپ کسی سے پو چھیں کہ اسکے والد کا نام کیا ہے۔
حا مدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمع انجمن پہلے چرا غ خا نہ تھی
اسیطر ح اگر ہم اپنے معا شرے میں بڑھتے ہو ئے عدم براداشت کے رجحانا ت کو دیکھیں بچیوں کا اپنے ماں با پ سے لڑنا جھگڑنا دیکھیں ۔ نو عمر بچیوں سے زیا دتی کے واقعات دیکھیں ، نو جوانوں کی گرتی ہو ئی صو رتحال دیکھیں تو ان سب کے پیچھے بھی عورتوں کا بے پر دہ ہو نا نظر آتا ہے۔
عام جب سے اثر بے حجا بی ہو ئی
نو جوانو ں میں پید ا خرا بی ہو ئی
اور ابلیس کو کا میا بی ہو ئی
کا رو با ر شیا طیں چمکنے لگا
قربان جا ئیے اسلا می تہذیب پر کہ اس نے مسلمانوں کے خا ندانی اور معاشرتی نظام کی بہبود کے لیے کیا خو ب احکا ما ت دئے
مردو ں اور عورتوں کو حفا ظت نظر کا حکم دیا
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ
گھر کے اند ر رہنے کا طر یقہ بیان کیا کہ اپنی زینت کو ظا ہر نہ کرو مگر جو خود ظاہر ہو جا ئے اور اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنی ڈال لیا کرو
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ
پا و ں کے پٹخنے اور آواز کی نرمی کو ممنو ع قرار دیا
وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
بلا وجہ گھر سے نکلنے کو ممنو ع قرار دیا
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
اگر کبھی ضرورت کے تحت نکلنا ہو تو اسکا طریقہ بیان کیا کہ عورت مکمل اپنے آپ کو چھپا ئے ، بس ایک آنکھ کھلی رکھے راستہ دیکھنے کے لئے
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ
کسی کے گھر جا نہ ہو تو اسکاادب بیان کیا یہاں تک کہ بچوں کے لئے لازم کیا ماں باپ کی خلو ت کی جگہ میں بلا اجا زت مت آئیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے
سا معین گرامی
ان احکامات کی بر کت سے ایک ایسا پا کیزہ معاشرہ قا ئم ہو ا کہ ایک عور ت زیوارت سے لدھ کر یمن سے مکہ آئی لیکن اسے اپنی عصمت و عفت کے چھن جا نے کا کو ئی ڈر نہ تھا کفا ر بھی اپنی عورتوں کو مسلمانو ں کے پا س محفو ظ تصور کر تے تھے
ایسی عورتیں بھی آئیں جنکے آنچل کو کو ئی غیر محر م توکیا دیکھتا، سو رج چا ند بھی نہ دیکھ سکے
سلطان التمش دہلی با دشاہ ہو کر بھی ایسے پا ک باز رہے کہ سا ری زندگی کسی نامحر م پر نظر نہ پڑ ی
ایسے علما ء اور صو فیہ کی بھی تعداد ہے جنہوں نے بلو غت کے بعد اپنی سگی بیٹی کو بھی کبھی نظر بھر کر نہیں دیکھا۔
میر ی معزز ما وں بہنوں
پردہ صرف ہما ری عزت و عصمت کا محا فظ نہیں
بلکہ اسلامی معا شرے کی اہم تریں اکا ئی ہے اور اسلامی معاشرتی نظا م کے احیا ء ، اور اسکے بقا ء اور اسکے ارتقاء کا ضامن ہے
ہما رے گھریلو ں نظام کی خو شیا ں اور خاندانی نظام کی بہا ریں رشتوں کا تقدس ، بچوں کی چہچہا تی ہو ئِی آوازیں سب اس سے وابستہ ہیں
جب پر دہ جا ئیگا تو ادب، احترام ،تقدس ،سکون، چین سب چلا جا ئیگا۔بلکہ میں
یو ں کہوں تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ آ نے والی نسلو ں کے ایمان لا لے پڑ جا ئنگے
کیونکہ حدیث میں رسو ل للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
إذا لم تستحی فاصنع ما شئ
جب تجھ میں حیا ختم ہو جا ئے تو تو جو چا ہے کر
میر ی ما وں بہنو ں تو آ ج ہم عزم مصمم کریں کہ ہم شرعی پر دہ زندہ گرینگی ، اور مغرب کی کھربو ڈالڑ کی انڈسٹری میں آگ لگا دیں گی اور
میڈیا کے طوفان بد تمیزی سے لیکر قبحہ خا نو ں اگ تک کو ٹھنڈا کرینگی۔
اگر صنفِ نازک کرے آج ہمت
تو امواجِ عریانی رُک جائیں فوراََ
اگر مائیں بہنیں ہوں پردے میں مخفی
تو مردوں کی آنکھیں بھی جھک جائیں فوراََ
وما عیلنا الالبلاغ المبین
ارباب وفکر و دانش ، جہان کتا ب وقلم کے مسا فران جلیل اور میر غیو ر ما وں بہنوں
السلام علیکم
اللہ تعالی نے ارشاد فر مایا
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ وَالۡخَـيۡلِ الۡمُسَوَّمَةِ وَالۡاَنۡعَامِ وَالۡحَـرۡثِؕ ذٰ لِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ
انسانوں کی سب سے محبو ب شے عورت ہے ۔
اگر ہم قدیم چینی با دشاہو ں کے حرم میں رہنے والی ہزاروں کنیزوں اور ان پر ہونے والے مظالم سے لیکر مسلم دنیا کے رنگیلے با د شا ہوں کا مطالعہ کر یں تو ہمیں قرآن مجید کی با ت میں صداقت نظر آتی ہے ،
اسی طر ح قصر الزہرا ء کے طلسمیا تی کا رخا نوں سے لیکر تاج محل کے عجوبے کو دیکھیں تو بھی ہمیں یہ با ت سچ نظر آتی ہے۔
کہ عورت محبوب ہے، اورقا عدہ یہ ہے کہ ہر محبوب چیز قیمتی ہو ا کرتی ہے، اور قیمتی اشیاء کی حفا ظت کی جا تی ہے
سا معین گرامی
جب ہم تا ریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے عورتوں سے دل بہلانا یہاں تک کہ اپنی مملکت میں پیدا ہو نے والی ہر بچی کو اپنی مملکو کہ سمجھنا قدیم با دشاہوں کا مشغلہ رہاہے۔
اسیطرح اگر ہم جدید مغربی تہذیب کا مطالعہ کریں تو وہ بھی عورت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
آزاد ی نسواں کے پر فریب نعرے سے لیکر مرد، عورت شانہ بشانہ کے نعرے تک ، ںجی اور سرکا ری ملازمتوں میں خوا تین کے کو ٹے سے لیکر خواتین کے کھیل کو د اور تفریحی سرگرمیوں تک ، بہبو د آبا دی کے نعرے سے لیکر Empowering Women کے نعرے تک سب کا ایک مقصد نظر آتا ہے کہ کس طر ح خو اتین کے پر دہ کو تا ر تا ر کیا جا ئے اور انہیں قدیم تہذیب کی ما نند ایک پروڈکٹ بنا یا جا ئے
معزز سا معین
اگر آج ہم مغربی معا شرہ کا جا ئزہ لیں ، جہاں پر دہ کو دقیا نو سیت قرار دیکر پھینکا جا چکا ہے ، چاردیو اری کو قید قرار دیکر اس سے مکمل رہا ئی حا صل کر لی گئی ہے تو ہمیں ہو شربا حقا ئق کا سامنا کر نا پڑتا ہے جس کو دیکھ کر انسا نیت شر ما جا تی ہے
آج مغربی دنیا میں سب زیا دہ جر ائم خو اتین کی عصمت و عفت سے متعلق ہیں ہر دو میں سے ایک خا تون کو ہر اسگی کا سا منا ہے صر ف امر یکہ میں
سا ت لا کھ سے زا ئد لو گ جنسی جر ائم میں قید ہیں۔
اور انکے سخت سے قوانین بھی ان جر ائم پر قابو پا نے میں نا کام ہیں اور حد تو یہ ہیکہ مقدس رشتوں کی پا ما لی کو ایک معمول کی با ت سمجھا جا تا ہے ۔الغرض پو رے خا ند انی نظا م کی کا یا لپیٹی جا چکی ہیں اور اس با ت پر
پا بندی ہے کہ آپ کسی سے پو چھیں کہ اسکے والد کا نام کیا ہے۔
حا مدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمع انجمن پہلے چرا غ خا نہ تھی
اسیطر ح اگر ہم اپنے معا شرے میں بڑھتے ہو ئے عدم براداشت کے رجحانا ت کو دیکھیں بچیوں کا اپنے ماں با پ سے لڑنا جھگڑنا دیکھیں ۔ نو عمر بچیوں سے زیا دتی کے واقعات دیکھیں ، نو جوانوں کی گرتی ہو ئی صو رتحال دیکھیں تو ان سب کے پیچھے بھی عورتوں کا بے پر دہ ہو نا نظر آتا ہے۔
عام جب سے اثر بے حجا بی ہو ئی
نو جوانو ں میں پید ا خرا بی ہو ئی
اور ابلیس کو کا میا بی ہو ئی
کا رو با ر شیا طیں چمکنے لگا
قربان جا ئیے اسلا می تہذیب پر کہ اس نے مسلمانوں کے خا ندانی اور معاشرتی نظام کی بہبود کے لیے کیا خو ب احکا ما ت دئے
مردو ں اور عورتوں کو حفا ظت نظر کا حکم دیا
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ
گھر کے اند ر رہنے کا طر یقہ بیان کیا کہ اپنی زینت کو ظا ہر نہ کرو مگر جو خود ظاہر ہو جا ئے اور اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنی ڈال لیا کرو
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ
پا و ں کے پٹخنے اور آواز کی نرمی کو ممنو ع قرار دیا
وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
بلا وجہ گھر سے نکلنے کو ممنو ع قرار دیا
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
اگر کبھی ضرورت کے تحت نکلنا ہو تو اسکا طریقہ بیان کیا کہ عورت مکمل اپنے آپ کو چھپا ئے ، بس ایک آنکھ کھلی رکھے راستہ دیکھنے کے لئے
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ
کسی کے گھر جا نہ ہو تو اسکاادب بیان کیا یہاں تک کہ بچوں کے لئے لازم کیا ماں باپ کی خلو ت کی جگہ میں بلا اجا زت مت آئیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے
سا معین گرامی
ان احکامات کی بر کت سے ایک ایسا پا کیزہ معاشرہ قا ئم ہو ا کہ ایک عور ت زیوارت سے لدھ کر یمن سے مکہ آئی لیکن اسے اپنی عصمت و عفت کے چھن جا نے کا کو ئی ڈر نہ تھا کفا ر بھی اپنی عورتوں کو مسلمانو ں کے پا س محفو ظ تصور کر تے تھے
ایسی عورتیں بھی آئیں جنکے آنچل کو کو ئی غیر محر م توکیا دیکھتا، سو رج چا ند بھی نہ دیکھ سکے
سلطان التمش دہلی با دشاہ ہو کر بھی ایسے پا ک باز رہے کہ سا ری زندگی کسی نامحر م پر نظر نہ پڑ ی
ایسے علما ء اور صو فیہ کی بھی تعداد ہے جنہوں نے بلو غت کے بعد اپنی سگی بیٹی کو بھی کبھی نظر بھر کر نہیں دیکھا۔
میر ی معزز ما وں بہنوں
پردہ صرف ہما ری عزت و عصمت کا محا فظ نہیں
بلکہ اسلامی معا شرے کی اہم تریں اکا ئی ہے اور اسلامی معاشرتی نظا م کے احیا ء ، اور اسکے بقا ء اور اسکے ارتقاء کا ضامن ہے
ہما رے گھریلو ں نظام کی خو شیا ں اور خاندانی نظام کی بہا ریں رشتوں کا تقدس ، بچوں کی چہچہا تی ہو ئِی آوازیں سب اس سے وابستہ ہیں
جب پر دہ جا ئیگا تو ادب، احترام ،تقدس ،سکون، چین سب چلا جا ئیگا۔بلکہ میں
یو ں کہوں تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ آ نے والی نسلو ں کے ایمان لا لے پڑ جا ئنگے
کیونکہ حدیث میں رسو ل للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
إذا لم تستحی فاصنع ما شئ
جب تجھ میں حیا ختم ہو جا ئے تو تو جو چا ہے کر
میر ی ما وں بہنو ں تو آ ج ہم عزم مصمم کریں کہ ہم شرعی پر دہ زندہ گرینگی ، اور مغرب کی کھربو ڈالڑ کی انڈسٹری میں آگ لگا دیں گی اور
میڈیا کے طوفان بد تمیزی سے لیکر قبحہ خا نو ں اگ تک کو ٹھنڈا کرینگی۔
اگر صنفِ نازک کرے آج ہمت
تو امواجِ عریانی رُک جائیں فوراََ
اگر مائیں بہنیں ہوں پردے میں مخفی
تو مردوں کی آنکھیں بھی جھک جائیں فوراََ
وما عیلنا الالبلاغ المبین