تما م ساتھیوں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، ﴿ظنو با لمو منین خیرا﴾
ہر من کے ساتھ نیک گمان کرو، اسکے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
﴿اذکرو مو تا کم با لخیر﴾ اپنے مرنے والے کو خیر کے سا تھ یا دکرو
جنید جمشید صا حب نے یہ با ت کہی اور آج وہ دنیا میں نہیں رہے ، انہو ں نے کس نیت بات کی یہ ایک علیحدہ مو ضو ع ہے اس پر مستقل با ت ہو سکتی ہے ،
میری گزارش یہ ہیکہ کسی بھی انسا ن کی اچھا یا ں تلاش کرنی چا ہئے , لیکن ہما ری من حیث القوم یہ حا لت ہو گئی ہے کہ ہم ہر شخص کی بر ائیاں پہلے دیکھتے ہیں، کسی کی پگڑی اچھا لنا ہمیں اچھا لگتا ہے ، ہما رے جلسہ ہو ں یا سیا سی اجتما عات ہو ں ، نجی محفلوں ہو ں یا ٹا ک شوز اور سو شل میڈیا پر ہو نے والی گفتگو سب میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھا لنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے اسی وجہ سے ہمارے گھروں میں لڑ ائیاں ہیں ، خا ندانو ں میں نفرتیں ہیں ہم کہیں سیا سی جما عتوں اور کہیں مذہبی گروہوں کے نام پر تقسیم ہیں ، نتیجہ یہ ہوا کی پو ری قوم آپس میں دست و گریباں ہے ۔
اللہ کے لئے جب کسی شخص کو دیکھنا ہو تو سب سے پہلے انسا نیت کی عینک سے دیکھنا چا ہئے کہ وہ انسا ن کیسا ہے ، پھر اگر عینک لگا نی ہو تو اسلام کی لگا نی چا ہئے کہ وہ شخص مسلمان کیسا ہے ، وہ عبا دات کس قدر پا بندہے،اسکا لبا س اسکی صورت اسکے عادات و اطوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر مشا بہ ہیں،
کسی کو مسلک، سیا سی وابستگی کی عینک لگا کر دیکھنے سے بچنا چا ہئئے۔
اللہ کے لئے ہم محبتیں با نٹیں نفرتیں نہ پھیلا ئیں کسی پسند پر اعتراض سے بچیں ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے دو انسا نو ں کی شکلیں ایک جیسی نہیں بنا ئی اسی طرح دو لو گو ں کے ذہن بھی ایک جیسے نہیں بنا ئے ، اختلاف ہونا ایک قدرتی قانون ہے کسی کی پسند کچھ ہو گی کسی کی کچھ اور کو ئی کسی چیز کو نا پسند کر تا ہو گا تو کو ئی کسی چیز کو ،
اگر میر ی کسی بات سے کسی کو تکلیف ہو ئی ہو تو میں معا فی کا طالب ہو ں ، لیکن میں کیا کروں یہ بتانا میرے ذمہ میں ضروری ہے۔